Skip to main content

Posts

Featured

‏ ایک دن میرا کوئی عزیز مجھے آخری الوداع کہنے اسی طرح بھاگتا ہوا آۓ گا ــ‎

 😊

میری بے بسی کی کتاب کا کوئی ورق تو نے پڑھا نہیں تجھےکیا خبر کہاں مر گئیں میری خواہشیں تیرےشہرمیں

‏حوروں سے کیا نبھاہ کریں گے وہ خلد میں جو پیار کرسکے نہ یہاں آدمی کے ساتھ

عشق کا اپنا غرور,, حسن کی اپنی ادا ان سے آیا نہ گیا,,, ہم سے بلایا نہ گیا

یہ جوانی شَباب اور راتیں بےنقاب آنا اچھا نہیں ہے کِیوں کہ محفل ہے یہ دِل جلوں کی یہاں کِسی پہ بھروسہ نہیں ہے تِرچھی تِرچھی نظر کہ میں قُرباں تیری آنکھیں ہیں یا مے کے پیالے جِس کو تُونے نظر سے پِلایا اُس کو پِھر ھوش آیا نہیں ہے جب سے دیکھا ھے جَلوہ تمہارا کوئی آنکھوں میں جچتا نہیں ہے لاکھ دیکھے جہاں میں حُسن والے کوئ عالم میں تُجھ سا نہیں ہے یہ جوانی شباب اور راتیں بے نقاب آنا اچھا نہیں ہے

،، میرا انتخاب،، آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی ! میری سرکار بڑی سخت خرابی ہو گی. شیخ جی ہم تو جہنم کے پرندے ٹھہرے۔ آپ کے پاس تو فردوس کی چابی ہو گی۔ کر دیا موسیٰ کو جس چیز نے بے ہوش عدم۔ بے نقابی نہیں وہ نیم حجابی ہو گی۔ عبدالحمید عدم

آ کے خود رقص کیا کرتا ہے جل جانے تک شمع_ سوزاں کھبی جاتی نہیں پروانے تک دھیان زاہد کا خدا تک کسی صورت نہ گیا دسترس تھی اسے تسبیح کے ہر دانے تک تجھ کو بھولے سے بھی میں بھول سکوں نہ ممکن یہ تعلق تو رہے گا مرے مر جانے تک بات کرنی ہے نکرین سے تنہا سب کو ساتھ رهتے ہیں یہ احباب تو دفنانے تک آج کل بے خودی شوق کا عالم ہے عجیب کہیں میں آپ نہ کھو جاؤں تجھے پانے تک موت برحق ہے مگر آخری خواہش یہ ہے سانس چلتی رہے میری تیرے آجانے تک قدم اٹھتے نہیں اب ضعف کا عالم ہے نصیر کوئی لے جاۓ مجھے تھام کے میخانے تک *پیرِ نصیر الدین نصیرشاہ*

حبس ِ دنیا سے گزر جاتے ہیں ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں دِل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی بال بے وجہ بکھر جاتے ہیں اب نہ دیکھو میری بنجر آنکھیں چڑھتے دریا تو اتر جاتے ہیں خالی دامن سے شکایت کیسی اشک آنکھوں میں تو بھر جاتے ہیں تم کہاں جاؤ گے سوچو محسن لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں 💖💖💖 محسن نقوی

وہ بلاٸیں تو کیا تماشا ہو؟ ہم نہ جاٸیں تو کیا تماشا ہو!؟ یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جاٸیں تو کیا تماشا ہو۔؟ بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے ہم بتاٸیں تو کیا تماشا ہو۔۔؟ آج ہم بھی تیری وفاٶں پر مسکراٸیں تو کیا تماشا ہو۔۔؟؟ تیری صورت جو اتفاق سے ہم بھول جاٸیں تو کیا تماشا ہو۔۔؟؟؟ وقت کی چند ساعتیں ساغرؔ لوٹ آٸیں تو کیا تماشا ہو۔۔۔؟؟ ساغر صدیقی

،،. تاج محل ،، یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل۔ یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق۔ اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر۔ ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق۔ ساحر لدھیانوی

بیٹھے ہیں چین سے، کہیں جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا، کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو تم نے بھی یاد آنا ہے، آنا تو ہے نہیں عہدِ وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہو، ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہلِ عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں وہ عشق تو کرے گا، مگر دیکھ بھال کے فارسؔ وہ تیرے جیسا دیوانہ تو ہے نہیں رحمان فارس

‏ہزار مثالاں عشق دِیاں اِیتھے فیر وی لُوکی عقل دے انھّے اصل نماز دِی سمجھ ناں آئی کر کر سجدے گوڈے بَھنّے